ساحلی پٹی پر واقع اضلاع کے کئی مقامات حالیہ دنوں میں گندی سیاست کی وجہ سے فرقہ پرستی کی آگ میں جل رہےہیں، قتل و غارت گری ،ایک دوسرے کو ختم کرنےکی کوششیں ، الزام تراشیاں ، احتجاج بہت کچھ ہورہاہے اور کیا جارہاہے ، اس دوران پیش آنے والے واقعات نے ثابت کیاہے کہ فرقہ پرستی کی آڑ میں سیاست دان کتنا ہی زہر گھولے مگر انسانیت زندہ ہے اور آج بھی اپنا فرض بلا خوف ادا کررہی ہے۔ ایسی ہی عملی مثالیں منگلورو کے سورتکل،کاٹی پالیا اور کوٹار چوک پر پیش آئی ہیں۔
دیپک راؤ معاملے میں اس کے مالک عبدالمجید کی کوششیں انسانیت کی ایک تازہ مثال ہے، گرچہ اس کی جان بچاناممکن نہیں ہوا مگر اس نے اپنی مدد سے انسانیت کو زندہ کردیا۔ اچانک ہتھیاروں کے حملے کا شکار بنے دیپک کی چیخ وپکار سن کر اپنے موبائیل دکان سے دوڑ کرنکلے عبدالمجید نے مقامی لوگوں کو قتل کی جانکاری دیتےہوئے دیپک کو اسپتال میں داخل تو کیا لیکن قدرت کے آگے بے بس ہونےپر عبدالمجید اپنی نمناک آنکھوں سے بیزارگی کا اظہار کیا۔
مالک عبدالمجید نے دیپک کے قتل پر اپنا دکھ ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ ’’اچھا لڑکا تھا، میرے پاس 7برسوں سے کام کررہاتھا، کبھی کسی سے اس کا کوئی جھگڑا نہیں ہوا تھا، اس کی یہ حالت دیکھنے سے بہت دکھ ہوتا ہے، جنہوں نے بھی قتل کیا ہے ان کی بربادی ہو ‘‘۔ آج دیپک کے قتل کو لے کر جس طرح کے فرقہ وارانہ کشیدگی کے حالات پیدا کئے جارہےہیں، اس پس منظر میں پھر ایک بار عبدالمجید کے یہ جملے چیخ چیخ کرکہہ رہے ہیں کہ گندی سیاست اور اس کے پروردہ معصوموں اور شریفوں کا مذاق اڑارہے ہیں، عبدالمجید کہتےہیں ’’ہمارے درمیا ن کوئی ذات پات یا تعصب نہیں تھا، ایمانداری کا دوسرا نام دیپک تھا، ہمارے معاملات کے درمیان کبھی بھی دھرم، ذات رکاوٹ نہیں بنی، پچھلے 7سالوں سے ہم انسانیت کی بنیاد پر کام کررہے تھے،کسی ایک دن بھی میں مسلمان ، تم ہندو کی تفریق نہیں ہوئی ‘‘۔
اسی طرح یہ بھی بتاتے چلیں کہ انسانیت کے ناطے جو لوگ جس طرح کا کام بھی انجام دے رہے ہیں، میڈیا اس کو بہت کم پیش کرتاہے، جب دیپک کا قتل ہورہاتھا تو بتایا جارہاہے کہ وہاں موجود مسلمانوں نے اس کوبچانے کی کوشش کی تھی، مقامی مسلمان دیپک تک پہنچنے سے پہلے ہی قاتل اپنی کار کے ذریعے تیز رفتاری کے ساتھ فرار ہوگئے ، اسی دوران کار کا رنگ، کارکانمبر اور کار کے رخ کا پتہ پولس کو دینے والے مسلمان تھے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اسی بنیاد پر پولس کو ملزموں کی گرفتاری کرنے میں آسانی ہوئی۔
دوسرے واقعہ کی طرف چلتے ہیں ، جس دن یعنی بدھ کو دیپک کا قتل ہوا اسی رات کوٹار چوکی کے قریب عبدالبشیر پربھی قاتلانہ حملہ ہواتھا،بشیر خون میں لت پت بے یار ومددگار راستے پرپڑے ہوئے تھے، ایمبولنس ڈرائیور شیکھر اور روہیت نامی دو ہندو لوگوں نے اس کی فوری مدد کرتے ہوئے بشیر کو اسپتال تک پہنچایا، جہاں وہ بہت ہی نازک حالت میں تھے، مگر وہ بھی جانبر نہ ہوسکے اور اتوار کو زخموں کی تاب نہ کر چل بسے۔
بتایا گیا ہے کہ شیکھر اور روہیت کوٹار چوکی کے راستے سے جارہے تھے تو بشیر سخت زخمی حالت میں پڑے ہوئے تھے ، قریب جاکر دیکھاتو کافی خون بہہ چکا تھا، انہوں نے فوری طورپر بشیر کو اے جے اسپتال میں داخل کیا۔ واقعہ کے متعلق بات کرتے ہوئے شیکھر نے بتایا کہ ہم نے ایک انسان کی مدد کی، ہمیں اطمینا ن ہے کہ ہم نے اُنہیں بچانے کی ہرممکن کوشش کی۔ بشیر کے گھروالوں نے بھی اُن کا شکریہ اداکیا ،شیکھر نے مزید بتایا کہ یہ اُس کے لئے پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے قبل وہ کئی مرتبہ زخمیوں کو اسپتال پہنچا چکا ہے، ان دونوں نے بھی ثابت کیا کہ آ ج بھی انسانیت زندہ ہے۔
فسادات ، حادثات ، سنگین حالات کے موقعوں پر ایسے کئی واقعات ہوتے رہتے ہیں مگر بہت کم واقعات کی تشہیر ہوتی ہے۔اس سے پہلے بھی اسی علاقے میں ایسے انسانیت نواز واقعات ہوئے ہیں۔ یہاں مندرجہ بالا دونوں واقعات پر تھوڑی دیر کے لئے غور کیجئے۔ یہاں ہندو، مسلم کی کوئی تفریق نہیں ہے ، مشکلات ، پریشانی ، مصیبت کے وقت ایک دوسرے کی مددکے لئے ایک لمحہ بھی سوچے بغیر لوگ دوڑ پڑے ہیں۔ خدانخواستہ ، خدانخواستہ ، ان دونوں واقعات میں بھولے سے کہیں بھی چھوٹی سی چوک بھی ہوجاتی تو فرقہ پرستوں کی منہ مانگی مراد بر آتی ، سیاستدانوں کو سیاست چمکانے کا موقع ملتا، دکان اونچی ہوتی ،مگر انسانیت کے ان واقعات نے درندوں کو مات دی ہے، ایسے ہی واقعات سے سماج کو ڈھارس ملتی ہے ، اعتماد باقی رہتاہے، امید کی کرن نظر آتی ہے۔
دیپک رائو کی موت پر کچھ درندوں نے خوب واویلا مچایا، مگر عبدالبشیر کی موت پر گھروالوں نے لوگوں سے صرف اس بات کی اپیل کی کہ وہ مرحوم کی مغفرت کے لئے دعا کریں۔ گھروالوں نے عبدالبشیر کی موت پر کسی بھی طرح کی سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی۔
درندے توصرف چیر پھاڑ کرنا ہی جانتے ہیں ان سے انسانیت کے ا لف کی امید بھی کرنا بے سود ہے۔ ابتداء میں حسب معمول انسانیت کے ان واقعات کی طرف نہ میڈیا کا کیمرہ گھوما، نہ قلم سے کوئی لفظ نکلا، نہ کسی اخبار نے ایسی کوئی رپورٹ شائع کرکے اپنا فرض نبھایا۔ ہاں ! صحافت سے وابستہ کچھ تعمیر پسند صحافیوں اور کچھ اخباروں نے ان واقعات کو شائع کرتے ہوئے اپنا فرض اچھی طرح نبھایاہے۔ سچ یہ ہے کہ انہوں نے بھی ثابت کیا ہے کہ انسانیت ابھی بھی زندہ اور تابندہ ہے۔